منگلورو24؍جنوری (ایس او نیوز) منگلورو پولیس کمشنر کی طرف سے دئے گئے بیان کے مطابق عبدالبشیر اور دیپک راؤ قتل کی سازش رچنے والے اہم ملزمین اور جیل میں بینک منیجر سے جبری وصولی کرنے والے ملزمین میں سے بعض کو پولیس نے گرفتارکرلیاہے۔یاد رہے کہ3جنوری کو دیپک راؤ کے قتل کا بدلہ لینے کے لئے اسی دن عبدالبشیر نامی شخص کورات کے وقت اس کی دکان میں گھس کر شرپسندوں نے قتل کردیا تھا۔ اور ان دونوں معاملات میں پہلے ہی کچھ ملزمین کو گرفتار کرلیاگیا تھا۔
پولیس کمشنرٹی آر سریش نے تازہ گرفتاریوں کے بارے میں پریس کانفرنس کے دوران تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہا کہ عبدالبشیرکو قتل کرنے کی سازش ڈسٹرکٹ جیل کے اندر رچی گئی تھی۔ اس تعلق سے پہلے ہی سے دوسرے جرائم کے سلسلے میں جیل میں بند زیر سماعت قیدی متھن عرف کلاڈکا متھن (28سال) ، تلک راج شیٹی (28سال) ،راجو عرف راجیش (21سال)کو گرفتار کیاگیا ہے۔انہیں حال ہی میں بنگلورو اور بیلگاوی کی جیل میں منتقل کیا گیا ہے۔خیال رہے کہ اس سے پہلے عبدالبشیر قتل کے معاملے میں پولیس نے شریجیت، دھنش پجاری،کشن پجاری، سنجے کوٹیان، پشپ راج اور لاتیش کوگرفتار کیا تھا اور وہ اس وقت عدالتی حراست میں ہیں۔جبکہ اس کیس کا ایک اور ملزم انوپ(30سال) ابھی مفروربتایاجاتا ہے۔
اسی طرح دیپک راؤ قتل کے سلسلے میں کی گئی مزید گرفتاریوں کے بارے میں پولیس کمشنر نے بتایاکہ سازش رچنے والوں میں شامل محمد رفیق عرف مینگو رفیق (۲۴سال) ،عرفان، محمد انس،محمد زاہد، ہدایت اللہ اورعمران نواز کو گرفتار کیا گیا ہے۔پولیس کے بیان کے مطابق ان تمام ملزموں کے خلاف سورتکل پولیس اسٹیشن میں قتل اور عمد قتل کے ایک سے زائد معاملات علاوہ چوری، ہراسانی اور لوٹ مار کے معاملے درج ہیں۔ یاد رہے کہ دیپک راؤ قتل کے تعلق سے پولیس نے اس سے قبل محمد نوشاد، محمد ارشاد، محمد نوازعرف پنکی نواز، رضوان عرف اجّو،عبدالعزیز اور عبدالعظیم کو گرفتار کیا تھا جو اس وقت عدالتی حراست میں ہیں۔
پولیس کمشنر ٹی آر سریش نے مالی بدعنوانی کے تعلق سے جیل میں بند بینک منیجر سے15لاکھ روپے جبری ہفتہ وصولی کے بارے میں بتایا کہ اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ جیل میں زیر سماعت قیدی متھن پجاری، تلک راج، راجو عرف راجیش(تینوں عبدالبشیر مرڈر کیس میں بھی ملزم ہیں)،شیوراج اور نکھل کو گرفتار کیا گیا ہے۔جبکہ اس معاملے کے مزید تین ملزمان انوپ، چرن اورمنوج مفرور ہیں اور کچھ مزید لوگوں کے ملوث ہونے کی صورت میں انہیں بھی گرفتار کرلیا جائے گا ۔پولیس کا کہنا ہے کہ طور پر جبری وصولی کی رقم چرن کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کی گئی تھی جو بعد میں ملزمین میں تقسیم کی گئی اور ان میں سے کچھ ملزموں نے اس رقم سے سونے کے زیورات خرید لیے تھے۔